سندھ نرسز ایگزیمینیشن بورڈ اور ایجنٹ مافیا، اصل کہانی کیا ہے

#BNEB

صوبہ سندھ میں پاکستان کے سب سے بہترین نرسنگ کے تعلیمی ادارے بھی موجود ہیں۔ لیکن گزشتہ سالوں چند سالوں میں سندھ میں نرسنگ پروفیشن ایک مذاق بن کہ رہ گیا تھا۔ جن کو ایک لائن بھی لکھنی نہیں آتی تھی وہ  بھی امتحانات میں پیسے لے کر پاس کرانے والے ایجنٹوں کی مدد سے نرسز بن رہے تھے .

ایسے لوگوں کا نرسنگ کے شعبے کا حصہ بننا جن کو نرسنگ کی اے بی سی بھی نہیں آتی یقینا ایک تشویشناک صورت حال تھی. یہ نہ صرف مریضوں کی زندگیوں سے کھیلنے کے مترادف ہے بلکہ ایسے لوگ نرسنگ کے شعبہ پہ  بھی ایک بدنما داغ ہیں. ایسے نرسز کی وجہ سے کوالیفائیڈ نرسز بھی بدنام ہو رہے ہیں. جو بھی آتا منہ اٹھا کہ نرس بن جاتا۔ ایسی صورتحال میں سندھ حکومت نے ایک اچھا فیصلہ کیا. وہ فیصلہ یہ تھا کہ سهدہ نرسز ایگزامینیشن بورڈ کی خالی سیٹوں پر سندھ حکومت نے اہل اور نیک نیت افسران کو لگا دیا. ان افسران میں کنٹرولر کے عھدے پر محترمہ خیرالنسا، ڈپٹی کونٹرولر محترم عطا راجپر اور اسسٹنٹ کونٹرولر محترم نومی وقاص صاحب شامل ہیں. یہ تینوں افسران پہلے ہی سندھ گورنمنٹ کے شعبہ صحت سے منسلک اور اچھی شہرت کے حامل تھے۔

سندھ نرسز ایگزیمینیشن بورڈ کی نئی قیادت نے میرٹ پر رزلٹ تیار کر کہ ایجنٹ اور کرپشن مافیا کے منہ پر ذبردست تماچا رسید کیا ہے۔ لیکن اب یہ ایجنٹ مافیا سٹوڈنٹ نرسز کا استعمال کر کہ ایس این ای بی انتظامیہ کو تبدیل کرا نا چاہتے ہیں۔ اگر ایسا ہوا تو نرسنگ کی تعلیم و تربیت پھر سے ایجنٹ مافیا کے حوالے ہو جائے گی.

سندھ نرسز ایگزیمینیشن بورڈ اور ایجنٹ مافیا

Comments

comments